گروگرام،27؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) ہریانہ کے گروگرام میں کھلے میں نماز پڑھنے کو لے کر تنازعہ جاری ہے۔ ہندو وادی تنظیم عمومی مقامات پر نماز پڑھنے کی مسلسل مخالفت کر رہے ہیں۔ اب گروگرام کے گوردوارہ سے سیکٹر 37 تک نماز ِجمعہ کی مخالفت کی گئی ہے۔ جب کہ کچھ شدت پسند ہندو وادی تنظیم کے ارکان نماز کی مخالفت کرنے گرودوارہ بھی پہنچ گئے ۔وہیں سیکٹر-37 کے علاقہ میں اسے کھلے مقامات پر نمازِ جمعہ کیلئے نشان زد کیا گیا ہے۔ اس دوران پولیس کے سامنے نمازیوں کو منتشر کیا گیا۔
واضح رہے کہ گروگرام کے 28 شناخت شدہ مقامات میں سے صرف 20 مقامات پر کھلے میں نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔حالیہ دنوں مسلمانوںکو گروگرام گوردوارہ میں نماز ادا کرنے کی دعوت دی گئی تھی، تاہم مسلمانوں نے گردوارہ میں نمازکی ادائیگی سے معذرت کرلی تھی، کیونکہ سکھ برادری اس وقت گرو پرو منا رہی ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ کیونکہ اس وقت گرو پروو چل رہا ہے، اس حالت میں کسی قسم کے جھگڑے سے بچنے کے لیے وہ گرودوارہ میں نماز نہیں پڑھ سکتے ۔
دراصل گروگرام انتظامیہ نے ہندو اور مسلم تنظیموں کے ساتھ مل بیٹھ کر نماز کی ادائیگی کے لیے 37 جگہیں نشان زد کی تھیں، جنہیں بعد میں ہندو تنظیموں کے دباؤ پر کم کر کے 20 کر دیا گیا ہے۔ بعد میں اس معاملہ پر تنازع ہوا۔ اب اس معاملہ میں کشیدگی جاری ہے۔ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر جمعہ کو شہر میں کھلے مقامات میں نماز ادا ئیگی کے لئے مصلیوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔